دزدیدہ نظر
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - ایسی نگاہ جو چوری چھپے ڈالی جائے، کنکھیوں سے دیکھنا۔ لے گئی سرمایۂ دل ان کی دزدیدہ نظر رہ گیا ہو جیسے شب میں گھر کا دروازہ کھلا ( ١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ١٨٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت'دزدیدہ' کے ساتھ عربی زبان سے مشتق اسم 'نظر' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٧٨ء سے "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مؤنث